Home>Posts>Community Issues, Politics, Religion & Culture>فاطمہ،فاطمہ است (کہانی) – مستجاب حیدر

فاطمہ،فاطمہ است (کہانی) – مستجاب حیدر

|
14-January-2020

    میں دوبجے تیار ہوگیا تھا- ڈھائی بجے دادا علی نقی کے کمرے میں پہنچا تو دیکھا کہ وہ اپنے بستر پر گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے خالی نظروں سے خلا میں گھور رہے ہیں- تھوڑی دیر کو رکا اور پھر کھانس کر ان کی توجہ اپنی طرف کرانا چاہی تو جیسے کوئی یک […]

 

 

میں دوبجے تیار ہوگیا تھا- ڈھائی بجے دادا علی نقی کے کمرے میں پہنچا تو دیکھا کہ وہ اپنے بستر پر گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے خالی نظروں سے خلا میں گھور رہے ہیں- تھوڑی دیر کو رکا اور پھر کھانس کر ان کی توجہ اپنی طرف کرانا چاہی تو جیسے کوئی یک دم خواب سے اٹھ جاتا ہے، اسے دادا چونک کر اٹھے اور میري طر‌ ديکھنے لگے

‘دادا! وہ آج یونیورسٹی ہاسٹل میں ساتھی احمد کے کمرے میں آپ نے برصغیر میں بایاں بازو کی سیاسی تاریخ پر لیکچر دینا ہے۔’

‘معذرت،بیٹا! آج تو یہ میرے لیے ممکن نہیں ہوسکے گا

ان کی آواز رندھائی ہوئی سی تھی- مجھے فکر لگ گئی- کیوں؟ دادا، طبعیت تو ٹھیک ہے نا؟ میں نے دریافت کیا

‘نہیں،فکر کی کوئی بات نہیں،تم جاؤ،میری طرف سے معذرت کرلینا- اگلے ہفتے سہی

سہ پہر تین بجے گھر سے نکل کر یونیورسٹی ہاسٹل پہنچا اور ساتھی احمد کے کمرے میں داخل ہوا تو وہاں صرف ملا جلا کر دس کے قریب ساتھی ہی موجود ملے۔ حیدر علی، زین العابدین، مختار حسین، فاطمہ شیرازی، احمد علی اور موسا نقوی،عشرت فاطمہ،فضہ رباب ان میں سے کوئی بھی نہیں تھا- اور تو اور سائرہ شہر بانو بھی غائب تھی- ساتھی احمد کہنے لگے کہ یہ سب لوگ تین دن تک نہیں آ پائیں گے- اور سب نے کوئی خاص وجہ ذکر نہیں کی تھی- تھوڑی دیر کو مجھے بہت عجیب لگا- گھر پر دادا کا اداس چہرہ دماغ میں روشن ہوکر سامنے آکیا- خیر میں فی الوقت یہ سب ایک طرف رکھا اور حاضر ساتھیوں سے کہنے لگا کہ آج سینئر ساتھی نقی علی کی طبعیت کی خرابی کی وجہ سے لیکچر تو نہیں ہوپائے گا اور نہ ہی بک ریڈنگ کا ریگولر سیشن کیونکہ بہت سارے ساتھی موجود نہیں ہیں- تو ایسا کرتے ہیں پنجابی نکسلائٹ انقلابی شاعر پاش کی کچھ نظموں کی باز خوانی کرتے ہیں

 

حکومت! تیری تلوار کا قد بہت پست ہے

شاعر کے قلم سے بھی بہت چھوٹا ہے

شاعری کے پاس تو کہنے کو اپنا بہت کچھ ہے

اسے تیرے قانون کی کیا ضرورت ہے

تیری جیلیں ہوسکتی ہیں شاعری کے لیے ہزار بار

مگر ایک نظم بھی تیری جیل کے لیے نہیں ہوسکتی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھاس

میں گھاس ہوں

میں تمہاری خاطر کہیں بھی کرائے پر اگ پڑوں گا

بم برساؤ یونیورسٹی پر، گرادو ہاسٹل کو

سہاگا پھیر دیو چاہے ہماری جھگیوں پہ /کردو ملیامیٹ

میرا کیا کروگے؟

میں تو گھاس ہوں

ہر جگہ دھکا لگاؤں گا

جدھر ڈھیر لگاؤگے وہیں اگ پڑوں گا

باغ کو ڈھیری بنادوگے

وال چاکنگ مٹادوگے

لدھیانے ضلع کو جھوٹ پرمتحد کردوگے

میری ہریالی اپنا کام کرے گی

دو سال بعد یا دس سال بعد

میں سرکاری قلم فروش سے پوچھوں گا

یہ کون سی جگہ ہے

مجھے برنالہ اتار دینا

جہاں ہرے گھاس کا جنگل ہے

میں تو گھاس ہوں،میں اپنا کام کروں گا

تمہارے لیے کرائے پر کسی جگہ بھی اگ جاؤں گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” یہ وہ اوتار سنگھ پاش ہے جس کی نظم کا ایک مصرعہ’سب سے خطرناک’ نذیر عباسی شہید کے پوسٹر کی پیشانی پر ہماری تنظیم نے لکھ کر چھاپا تھا-“

محنت کی اجرت کا چھن جانا سب سے خطرناک نہیں ہوتا

پولیس کا مار پیٹ کرنا سب سے خطرناک نہیں ہوتا

اصل میں لالچ میں ڈوبا غدار سب سے خطرناک نہیں ہوتا

بیٹھے ہوئے اونگھتے رہنا برا تو ہوتا ہے

ڈر کے غار میں اتر کر مرے جانا برا تو ہوتا ہے

مگر سب سے خطرناک نہیں ہوتا

کسی جگنو کی روشنی میں پڑھنے لگ جانا برا تو ہوتا ہے

جھوٹ کے شور میں

ٹھیک ہوتے ہوئے بھی دب جانا برا تو ہوتا ہے

مگر سب سے خطرناک نہیں ہوتا

سب سے خطرناک ہوتا ہے

مردہ شانتی سے بھرجانا

نہ ہونا تڑپ کا، سب کچھ سہن کرجانا

گھر سے نکلنا کام پر

اور کام کی جگہ سے گھر جانا

ہمارے سپنوں کا مرجانا سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے

سب سے خطرناک وہ گھڑی ہوتی ہے

جو تمہاری کلائی پرچلتی ہوئی بھی

تمہاری نظروں کے لیے کھڑی ہوتی ہے

سب سے خطرناک وہ آنکھ ہوتی ہے

جو سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی

ٹھنڈی یخ ہوتی ہے

جس کی نظر محبت سے چومنا ہی بھول جاتی ہے

وہ چیز جو بھاپ اندھیرے پر گر جاتی ہے

جو ہر دم دکھائی دیتی رتوں کو پیتی ہوئی

ایک بے عیب تکرار میں خود کو گھیر لیتی ہے

سب سے خطرناک وہ چاند ہوتا ہے

کہ قتل کی ہر واردات کے بعد

سونے پڑے آنگن میں چڑھ آتا ہے

لیکن تمہاری آنکھوں میں مرچوں کی طرح نہیں چبھتا ہے

سب سے خطرناک وہ گیت ہوتا ہے

جو تمہارے کانوں تک پہنچنے کے لیے

کرنوں کو نگل جاتا ہے

جو ڈرے ہوئے لوگوں کے بارے میں

وقت کی کائیں کائیں ہی الاپتا ہے

سب سے خطرناک وہ رات ہوتی ہے

جو زندہ روحوں کے آسمان پر چھاجاتی ہے

جس میں صرف الو بولتے اور گیڈر چیختے

چمٹ جاتے ہیں بند دروازوں کی چوکھٹ سے

سب سے خطرناک وہ سمت ہوتی ہے

جس میں روح کا سورج ڈوب جاتا ہے

اور اس کی مردہ دھوپ کی کچھ گندگی

تمہارے جسم کے مشرق میں لگ جائے

محنت کی اجرت کا لٹ جانا سب سے خطرناک نہیں ہوتا

پولیس کا مار پیٹ کرنا سب سے خطرناک نہیں ہوتا

غدار کا لالچ سے بھرجانا سب سے خطرناک نہیں ہوتا

یوں یومیہ سیشن اپنے انجام کو پہنچا اورمیں سب کو رخصت کرکے آخر خود بھی واپس گھر کی طرف چل پڑا- شام ڈھل چکی تھی- میں نے پیدل ہی تین سے چار میل کا فاصلہ طے کیا اور وہاں سے بس میں بیٹھا اور نارتھ ناظم آباد کے ایف بلاک کے قریب بنے ایک بس اسٹاپ پر اترگیا- وہاں سے پھر پیدل چلتا ہوا اپنے مکان والی گلی میں داخل ہوگیا- سارے راستےمیرے دماغ میں کھچڑی پکتی رہی- میرےساتھی غیر حاضر کیوں تھے؟ پہلےمیں نے سوچا تھا کہ سائرہ شہر بانو کے گھر چلا جاؤں جو ڈی بلاک میں تھا لیکن پھر میں نے یہ ارادہ ملتوی کردیا- مجھے دادا کی فکر تھی۔ اور آخرکار میں گھر میں داخل ہوگیا

یہ جمادی الثانی کی 13 تاریخ تھی- رات ہوچکی تھی- آسمان میں مغرب کی سمت پہلا ستارہ خوب چمک رہا تھا- اور چودھویں رات کا چاند پورے آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ صحن میں چاندنی بکھری ہوئی تھی- لیکن صحن کے چاروں طرف بنے کمرے اور ایک دائرے کی صورت بنا برآمدہ مکمل طور پر تاریک تھا- صرف دارالمطالعہ کی ایک کھڑکی سے روشنی کی کرنیں جھلمل کرتی باہر آرہی تھیں- جاتے ہوئےمیں دادی زھرا کو دیکھ نہ پایا تھا- اب بھی وہ نظر نہیں آرہی تھیں-میں نے کچھ دیر توقف کیا اور پھر دار المطالعہ کی طرف بڑھا اور آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر چلا آیا- سامنے دیکھا کہ دادا اور دادی مطالعے کی میز پر آمنے سامنے رکھی کرسیوں پر بیٹھے اسٹڈی لمیپ کی روشنی میں سامنے میز پر کتاب دھرے پڑھ رہے تھے۔ ان کو اس کی آمد کی زرا خبر نہ ہوسکی- جب عین ان کے سر پر پہنچ گیا تو دونوں نے بیک وقت سر اٹھاکر اس کی طرف دیکھا تو نجانے اس کو کیوں لگا کہ دونوں کی آنکھوں کے گوشے بھیگے ہوئے تھے اور آنکھیں سرخ تھیں جیسے وہ کافی دیر روتے رہے ہوں- پاس پڑی ایک کرسی گھسیٹ کر وہ بھی میز کے گرد ان کے ساتھ بیٹھ گیا

” آپ لوگوں کو کوئی صدمہ پہنچا ہے؟ روتے رہیں ہیں آپ؟ آنکھیں سرخ ہیں، گوشے بھیگے ہوئے ہیں؟ کیا بات ہے؟ مجھے کیوں نہیں بتارہے؟

ایک سانس میں کئی سوال کرڈالے تھے۔

پہلے دادا،دادی نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر دادا نے دادی کو آنکھ کا اشارہ کیا اور دادی زھرا نے کہنا شروع کردیا

عامی، عجیب بات ہے کہ اگرچہ تم بچپن سے ہمارے ساتھ ہو۔ لیکن آج سے جو دن شروع ہورہے ہیں ان ایام میں کوئی نا کوئی سبب ایسا بنا کہ تم اور ہم اکٹھے نہ ہوسکے اور ان دنوں کے بارے میں تم سے کوئی بات بھی نہیں ہوسکی- اسلامی مہنیوں میں جمادی الثانی کی 13 سے 15 تاریخ تک کے تین ایام ہمارے جیسوں کے لیے نہایت حزن،ملال،دکھ اور درد کے ایام ہوتے ہیں-اور ان ایام کو مسلم لٹریچر میں ایام فاطمیہ کہا جاتا ہے۔ 13 جمادی الثانی سے 15 جمادی الثانی میں سے ایک دن فاطمۃ الزھرا (سلام اللہ علیھا) کی وفات کا دن ہے۔ یہ تین دن رثا اور عزا کے حوالے سے عاشورا کے دس دنوں سے کم دردناک نہیں ہیں۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تم رات کے اس پہر ہمارے ساتھ ہو اور تم ہمیں ملا میں دیکھ کر حیران اور پریشان ہو تو اس میں تعجب کی بات نہیں ہے۔

یہ بات سن کر ایک دم سےمیرے ذہن میں جیسے کوئی بجلی سی چمکی ہو اور اس چمک میں اپنے غیرحاضر ساتھیوں کے چہرے دیکھے جو چشم تصور سےمجھے ملول و مغموم نظر آئے۔ اور مجھے لگا کہ میرے غیر حاضر ساتھی بھی ایسے ہی کسی تاریک گوشے میں جہاں بس لمیپ کی روشنی ہوگی بیٹھے ہیں اور ان کی آنکھیں بھی سرخ ہیں بلکہ کچھ تو گریہ بھی کررہے ہیں- ملتے جلتے،مخصوص نام جو تاریخ میں ایک بہت ہی مقدس خاندان کے تاریخی ناموں سے مماثلت رکھتے ہیں اس کے ساتھیوں کے نام ہیں اور آج وہ سب کے سب غیر حاضر تھے اور یومیہ سیشن سے اگلے دو دن بھی غیر حاضر رہنے والے تھے۔

‘بیٹا! تمہیں پتا ہے کہ جب محمد(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوا تو سب سے زیادہ غم کا پہاڑ کس ذات پر ٹوٹا تھا؟ وہ ذات فاطمۃ الزھرا (سلام اللہ علیھا) کی تھی- 18 ربیع الاول کو ان کا گریہ شروع ہوا تو پھر 52 یا 55 دن تک یہ گریہ اس وقت تک نہ تھما جب تک وہ خود نہ ان کے پاس چلی گئیں۔’

دادی زھرا نے لرزتی اور غم سے بوجھل آواز میں کہا

‘تو کیا ان کی ذات کا غم ،ملال اور دکھ صرف مخصوص ناموں اور مخصوص شناختوں کے حامل لوگ ہی مناتے ہیں؟ میں آج تنظیم کا یومیہ سیشن لینے گیا تو وہاں مخصوص ناموں والے ساتھی ہی غیر حاضر تھے اور اگلے دو دن بھی وہی مخصوص ناموں والے غیر حاضر ہوں گے

“کیا ان کا اور مخصوص ناموں والوں کا جو مشترکہ تاریخی ادب ہے وہ 55 دنوں کی داستان نہیں سناتا اور کیا یہ تین ایام ان کے اور مخصوص ناموں والوں کے روایت کے ورثے کا حصّہ نہیں ہے؟”

میں نے الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ سوال کیا

‘بیٹا! جب جبر اور ظلم کی حکومتیں صدیوں قائم رہتی ہیں تو اس دوران لاکھوں، کروڑوں کتابوں کے انبار جبراور ظلم کی سیاہی سے لکھے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ دربار کے قصّہ گو ایسی داستانیں گھڑتے ہیں جس سے ایسی روایت لاشعور سے تحت الشعور اور پھر شعور کی سطحوں پر نقش ہوتی ہے جس سے ‘فراموشی سچ’ کی حالت مستقل ہوجاتی ہے اور سچائی کے لفظوں کی روشنی حاشیے پر منتقل ہوتی ہے یا ‘فراموشی’ کی تہہ در تہہ پرتوں کے درمیان ایسے گم ہوتی ہے کہ پریکٹس سے خارج ہوجاتی ہے۔ اور پھر سچائی کے ایام جن میں مجبور،مظلوم اور محکوم کی سسکیاں،گریہ اور دکھوں سے بھرا ملال مجسم ہوا ہوتا ہے رسوم میں ڈھلتے نہیں ہیں اور ان کو منانے والے اقلیت میں ہوا کرتے ہیں

یہاں تک کہ ترقی پسند، انقلاب پرست اور بغاوت و مزاحمت کے مرکزی دھاروں میں بھی وہ حاشیے پر ہی پڑے رہتے ہیں- اور وہاں بھی مخصوص ناموں والے ‘یومیہ باغیانہ/انقلابی سیشن’ سے غیر حاضر ہوکر ہی ان ایام کو منا پاتے ہیں- کیونکہ یومیہ باغیانہ سیشن والے غیرمخصوص نام والے ایسے ایام نہیں منا پاتے- وہ سقراط کے زھر کا پیالہ پینے کی یاد تو شوق سے مناتے ہیں- ان کو سپارٹیکس کے غلاموں کی بغاوت میں مارے جانے والوں کی بے بسی تو خون کے آنسو رلاتی ہے لیکن ربذہ کے صحرا میں سچائی کی خاطر تنہائی میں مرنے والے ابو زر کی یاد نہ تو رلاتی ہے اور نہ اس دن کی یاد منانے کا ان میں یارا ہوا کرتا ہے- وہ اسے فرقہ پرستی کی بائنری میں دیکھتے ہیں اور مخصوص ناموں والے اپنے ساتھیوں کو وہ شک کی نظر سے دیکھتے ہیں

ان کو وہ ‘عورت’ آزادی فکر کی علامت لگتی ہی نہیں جو اپنا حق مانگنے گئی تھی اور اس نے ریاست کی مطلق العنانیت کے نام پر اپنے حق کے غصب کیے جانے پر آواز بلند کی تھی- اور مشترکہ تاریخی ادبی ورثے میں ان کی نظر ‘لا تکلم حتی ماتت’ جیسے بیزاری اور لاتعلق ہوجانے کی عظیم ترین عدم تشدد پر مبنی انقلابی روایت کا سراغ نہیں ملتا اور ان کی ترقی پسندی کا سورج اس مقام پر ڈوب جاتا ہے۔ ان کو ‘گریہ’ مزاحمت کی قسم نہیں لگتا- جبکہ اس زمانے میں جب اس ہستی نے یہ گریہ اپنے گھر میں شروع کررکھا تھا تو یہ اس وقت لوگوں کی نیند خراب کردیا کرتا تھا اور تب اس ہستی نے اپنا خیمہ جنت البقیع کی قبروں کے درمیان ویرانے میں نصب کروایا اور پھر وہیں وہ رات بھر گریہ کناں رہا کرتی تھی- وہ مردانہ شاؤنزم کے خلاف بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن ایک قبائلی سماج میں ہتھیار بند مردوں کے ایک جتھے کا ایک عورت کے گھر کے سامنے جاکر اس گھر کو آگ لگادینے کی دھمکی کو مشترکہ تاریخی ورثے میں دیکھ ہی نہیں پاتے اور اس موقعہ پر وہ ایک عورت کی مزاحمت کا ذکر کرنے سے شرماتے ہیں

یہ عورت نہ تو ان کے فیمنسٹ چوکھٹے میں کہیں فٹ ہوتی ہے اور نہ ہی یہ ان کے مزاحمت و بغاوت کے فریم میں ٹھیک بیٹھتی ہے۔ یہ یونانی مائتھالوجی سے کئی نسائی کردار تلاش کرکے لے آتے ہیں لیکن مشترکہ تاریخی ادبی سرمائے میں موجود یہ کردار ان کو نظر نہیں آتا اور اس عورت کے نام پر یہ کوئی یوم نہیں مناتے۔ جو فاطمہ فاطمہ است لکھتے ہوئے سوشلسٹ استاد علی شریعتی کو نظر آیا وہ ان کو نظر نہیں آتی- ہم مخصوص ناموں والے ساتھی(کامریڈز) اس یوم کو ‘یومیہ سیشن’ میں بھی نہیں مناسکتے- کیونکہ فرقہ پرستی،رجعت پرستی کا الزام لگ جائے گا- کہا جاتا ہے وہ جن کے نام حیدر،نقی، تقی و سجاد و حسن و حسین ہوا کرتے ہیں بن بھی جائیں انقلاب پرست رہتے علی پرست و فاطمہ پرست ہیں- کیا امیہ پرستوں و عباسی پرستوں کے دور میں علی پرستی و فاطمہ پرستی نہیں تھی نام مزاحمت کا،بغاوت کا،انقلاب کا- کیا ضروری ہے ساتھی بننے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی روایت کے انقلاب پرستوں اور مزاحمت پرستوں کا انکار کردیا جائے؟

دادی زھرا درد بھرے لہجے میں بولتے ہی چلی گئیں اور میرے اندر پاش کی نظم کے مصرعوں کی بازگشت شور مچا رہی تھی

سب سے خطرناک وہ سمت ہوتی ہے

جس میں روح کا سورج ڈوب جاتا ہے

اور اس کی مردہ دھوپ کی کچھ گندگی

تمہارے جسم کے مشرق میں لگ جائے

میں نے دادا نقی علی کے سامنے کھلی پڑی کتاب کے صفحے پر نظر ڈالی

Imam Sadiq (as) said : Fatima(s.a.) has been called Zahra because the Glorified Allah created her from His Glorious Light. When it shone, all the heavens and the earth were bright with that light and the angel’s eyes were closed, and they bowed down before Allah. Then they said:”O our Lord and Master, what is this light?”

Allah revealed to them, “It is a light from My light, which is in Heaven. I took it from My Glory, and put it in the lines of one of my Messengers, who is the best. From this light, Imams will come, and who will be steadfast in obedience to My commands.” ( Bihar ul-Anwar, vol.43, p.12, 14, 15)

یہ جو روشنی تھی، اس سے ڈرنے والے کون تھے؟ یہ سوال میرے ذہن میں نجانے کیسے ابھرا کچھ کہہ نہیں سکتا

زاہد نے میرا حاصل ایماں نہیں دیکھا

رخ پہ تیری زلفوں کو پری شاں کو نہیں دیکھا

ہر حال میں بس پیش نظر وہی صورت

میں نے کبھی روئے شب ہجراں نہیں دیکھا

دادا نقی نے اچانک سے مشہور غزل کے دو شعر پڑھ ڈالے تھے- وہ ایسا ہی کرتے تھے

آئے تھے سب ہی طرح کے جلوے میرے آگے

میں نے مگر اے دیدہ حیراں نہیں دیکھا

یہ شعر پڑھ کر خاموش ہوگئے

کیا کیا ہوا ہنگام جنوں یہ نہیں معلوم

کچھ ہوش جو آیا تو گریباں نہیں دیکھا

دادی زھرا نے شعر پڑھ کر بات آگے بڑھائی

تمہیں پتا ہے علی بن حسین کہا کرتے تھے

جس دن یزیدی فوج نے میرے والد کو قتل کیا تھا اس دن میرے بابا نے مجھے گلے سے لگایا، ایسی حالت میں کہ ان کے جسم سے خون کے قطرے برس رہے تھے گویا کہہ رہے ہوں

آج کی بات پھر نہیں ہوگی

آج کے بعد ملاقات پھر نہیں ہوگی

کہنے لگے فرزند یہ دعا یاد کرلو ہر حزن و غم جو بڑا معاملہ تم پر پڑے اس دعا کو پڑھنے کے بعد اسے بیان کرنا- یہ دعا میری والدہ (فاطمہ زھرا) نے مجھے سکھائی تھی

بحق یسن و القرآن کریم و بحق طہ والقرآن العظیم یا من یقدر الحوائج السائلین یا من یعلم ما فی الضمیر یا منفس عن المکروبین یا مفرح عن المغمومین یا راحم الشیخ الکبیر یا رازق الطفل الصغیر،یا من لایحتاج الی التفسیر صلی علی محمد و آل محمد

( یاسین کے واسطے ،قرآن کریم کے واسطے، طہ کے واسطے، قرآن عظیم کے واسطے اے وہ ذات جو مانگنے والوں کی حاجتوں کو پورا کرنے پہ قادر ہے، اے وہ ذات جو دلوں کا حال جانتی ہے، اے وہ ذات جو غمگین دلوں کا سہارا ہے، اے وہ ذات جو غم زدوں کو فرحت بخشتی ہے ، اے وہ ذات جو پیر فانی پر رحم کرنے والی اور اے وہ ذات جو شیر خوار بچوں کی رازق ہے اور اے وہ ذات جسے (مدعا) کی تفیسر کی حاجت نہیں ہوتی صلی علی محمد و آل محمد)

تاریخ بتاتی ہے اور میں چشم تصور سے دیکھ رہی ہوں کہ جناب فاطمہ زھرا (سلام اللہ علیھا) یہ دعا پڑھ کر زبان حال سے کہتی ہوں گی

شب غم کی سحر نہیں ہوتی

اے زندگی تو ہی مختصر ہوجا

شب غم تو مختصر نہیں ہوتی

پچپن دن لگے اس دعا کو قبول ہونے میں- پھر اس ہستی نے واصل حق ہونے سے پہلے اپنے جنازے کے شرکا کا تعین بھی کردیا تھا- رات کے اندھیرے میں وہ جنازہ ہوا اور شہر جو ان کے والد کی آخری آرام گاہ والا شہر تھا- وہ شہر جسے حرم اور امن کا درجہ حاصل تھا وہاں ان کی قبر کے ارد گرد ایک جیسی ستر قبریں اور تیار کی گئیں

کیوں؟

میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا

بیٹا! اس کے لیے تمہیں تاریخ پڑھنا پڑھے گی- ایک جیسی درجنوں قبریں کن کی قبروں کے اردگرد بنائی جاتی تھیں اور کیوں بنائی جاتی تھیں؟ تمہیں یہ بھی تلاش کرنا ہوگا کہ کس کی قبر تھی جو عراق کے آج کے شہر نجف میں کئی صدیاں خفیہ رکھی گئی اور اس کا پتا صرف اس کے قبیلے کے چند انتہائی قریبی لوگوں کا تھا- اور ایسا کیوں ہوا؟

یہ کہہ کر دادا،دادی دونوں ایک دم سے چپ ہوگئے- ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے- میری نظریں دارالمطالعہ کی مشرق کی طرف ایک لائن میں لگے کارل مارکس ، اینگلس، لینن، بھگت سنگھ، چی گیورا، رانی جھانسی، روزا لکسمبرگ ، حسن ناصر، نذیر عباسی، ایاز سموں، ناصر بلوچ، رزاق جھرنا کے پوٹریٹ پر پڑی لگا سب کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے لگا جیسے وہ بھی ایام فاطمیہ منارہے ہوں

Tags


Share This Story, Choose Your Platform!


Latest From Twitter